عراق کے وزير اعظم نے الوطن میگزین سے گفتگو میں کہا ہے کہ صدام حکومت کے خاتمے سے لے کر آج تک عراق کے بارے میں سعودی عرب کا منفی کردار نہ صرف مسلسل جاری ہے بلکہ عراقی حکومت اور عراقی عوام کے خلاف سعودی اقدامات میں روز بروز اضافہ ہورہاہے ۔ نوری مالکی نے یہ بات زوردے کر کہی ہے کہ بغداد کی طرف سے خیرسگالی کی مسلسل کوششوں کے باوجود ریاض نے ان کا ہمیشہ منفی جواب دیا ہے ۔ نوری مالکی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لئے ہم نے بہت کوششیں کی ہیں لیکن ان کی طرف سے منفی رویے کی وجہ سے اب ہم بھی اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کریں گے ۔عراق کے اعلی حکام کی طرف سے سعودی عرب کے منفی اقدامات کے خلاف گلے شکوے ایک ایسے وقت میں سامنے آرہے ہیں کہ عراق کے پاس ایسے بہت سے ٹھوس اور دستاویزي ثبوت موجود ہیں جن ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب عراق کے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت کررہا ہے۔عراق کے پارلیمنٹ کے ایک اور اہم رکن اور عراقی الائنس کے فعال رکن جمال جعفر نے بھی سعودی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب امریکہ کے کہنے پر عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے ۔عراق میں گزشتہ چند ماہ میں ہولناک دھماکوں میں بیسیوں افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔عراق کے سلامتی کے اداروں کی تفتیش کی روشنی میں ان دھماکوں میں بعض عرب ممالک کا ہاتھ ہے ۔سعودی عرب اور اردن تو عراق کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی راضي نہیں ہیں اور وہ اپنی اس برہمی کو چھپا بھی نہیں رہے ہیں بلکہ عراق کے سیاسی استحکام کو نقصان پہنچانے کے لئے ایسے گروہوں کی پشت پناہی کررہے ہیں جن کا ماضی اور حال عراق کی عوام دشمنی کے علاوہ کچھ نہیں۔صدام کی باقیات یعنی بعث پارٹی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں اور اس ملک اور عوام دشمن گروہ کی تمام مالی ضروریات سعودی عرب کی طرف سے پوری کی جارہی ہیں اس حوالے سے علاقے کے بعض اخبارات نے یہاں تک انکشاف کیا ہے کہ بعض عرب ملکوں نے عراق کے موجود سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لئے چھ ارب ڈالر کا فنڈ مختص کیا ہے ۔بہرحال حکومت عراق کی پوری کوشش ہے کہ اپنے عوام کو ساتھ لے کر سیاسی عمل کو آگے بڑھا دے تاہم عراقی حکام کے بیانات کی پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی پارلیمنٹ کے تمام گروہوں کو ساتھ لے کر بیرونی مداخلت کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے کوشاں ہیں تا کہ آئندہ انتخابات کے راستے میں آنے والی تمام رکاوٹوں سے عبور کیا جا سکے ۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 173321
عراقی وزير اعظم نوری مالکی نے ایک بار پھر عراق کے بارے میں سعودی عرب کے منفی کردار پر سخت تنقید کی ہے ۔